کلامِ ذوقردیف ے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داںپر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے
پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہمپہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے
شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤںپر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پربلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانیجب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے
نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگزہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے
سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریاچڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے
لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیںاور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے
رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تممہر و ماہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے
ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیںیاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملاان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
۵۳ / ۶۶