کلامِ ذوقردیف ے
آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے
۱
آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہےجان کشتی قضا سے لڑتی ہے
۲
شعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میںشمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے
۳
قسمت اس بت سے جا لڑی اپنیدیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے
۴
شور قلقل یہ کیوں ہے دختر رزکیا کسی پارسا سے لڑتی ہے
۵
نہیں مژگاں کی دو صفیں گویااک بلا اک بلا سے لڑتی ہے
۶
نگۂ ناز اس کی عاشق سےچھوٹ کس کس ادا سے لڑتی ہے
۷
تیرے بیمار کے سر بالیںموت کیا کیا شفا سے لڑتی ہے
۸
زال دنیا نے صلح کی کس دنیہ لڑاکا سدا سے لڑتی ہے
۹
واہ کیا کیا طبیعت اپنی بھیعشق میں ابتدا سے لڑتی ہے
۱۰
دیکھ اس چشم مست کی شوخیجب کسی پارسا سے لڑتی ہے
۱۱
تیری شمشیر خوں کے چھینٹوں سےچھینٹے آب بقا سے لڑتی ہے
۱۲
سچ ہے الحرب خدعۃ اے ذوقؔنگہ اس کی دغا سے لڑتی ہے
۵۴ / ۶۶