کلامِ ذوقردیف ے
کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہے
۱
کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہےکہ آدمی جو کہے بات سوچ کر تو کہے
۲
مری حقیقت پر درد کو کبھی اس سےبہ آہ و نالہ نہ کہوے بہ چشم تر تو کہے
۳
یہ آرزو ہے جہنم کو بھی کہ آتش عشقمجھے نہ شعلہ گر اپنا کہے شرر تو کہے
۴
بقدر مایہ نہیں گر ہر اک کا رتبہ و نامتو ہاں حباب کو دیکھیں کوئی گہر تو کہے
۵
کہے جو کچھ مجھے ناصح نہیں وہ دیوانہکہ جانتا ہے کہے کا ہو کچھ اثر تو کہے
۶
جل اٹھے شمع کے مانند قصہ خواں کی زباںہمارا قصۂ پرسوز لحظہ بھر تو کہے
۷
صدا ہے خوں میں بھی منصور کے انا الحق کیکہے اگر کوئی توحید اس قدر تو کہے
۸
مجال ہے کہ ترے آگے فتنہ دم مارےکہے گا اور تو کیا پہلے الحذر تو کہے
۹
بنے بلا سے مرا مرغ نامہ بر بھنوراکہ اس کو دیکھ کے وہ منہ سے خوش خبر تو کہے
۱۰
ہر ایک شعر میں مضمون گریہ ہے میرےمری طرح سے کوئی ذوقؔ شعر تر تو کہے
۵۷ / ۶۶