کلامِ ذوقردیف ے

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے

۱

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرےاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے

۲

عشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھاڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے

۳

ہے جراحت کا مری سودۂ الماس علاجفائدہ اس کو کبھی سنگ جراحت نہ کرے

۴

ہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریاکیا کرے جادہ اگر ترک رفاقت نہ کرے

۵

آج تک خوں سے مرے تر ہے زبان خنجرکیا کرے جب کہ طلب کوئی شہادت نہ کرے

۶

ہے یہ انساں بڑے استاد کا شاگرد رشیدکر سکے کون اگر یہ بھی خلافت نہ کرے

۷

بن جلے شمع کے پروانہ نہیں جل سکتاکیا بڑھے عشق اگر حسن ہی سبقت نہ کرے

۸

پھر چلا مقتل عشاق کی جانب قاتلسر پہ برپا کہیں کشتوں کے قیامت نہ کرے

۵۸ / ۶۶