کلامِ ذوقردیف ے
کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
۱
کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئےموت آتی ہے اجل کو یاں تلک آتے ہوئے
۲
آتش خورشید سے اٹھتا نہیں دیکھا دھواںآ کھڑے ہو بام پر تم بال سکھلاتے ہوئے
۳
چاک آتا ہے نظر پیراہن صبح بہارکس شہید ناز کو دیکھا ہے کفناتے ہوئے
۴
وہ نہ جاگے رات کو اور ضد سے بخت خفتہ کیبج گیا آخر گجر زنجیر کھڑکاتے ہوئے
۵۹ / ۶۶