کلامِ ذوقردیف ے

کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے

۱

کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دےنہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے

۲

بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دےدگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے

۳

گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دےکہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے

۴

ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیرابخدا کے واسطے تیغ ستم کو آب تو دے

۵

تمہارے مطلع ابرو پہ یہ کہے ہے خالکہ ایسا نقطہ کوئی وقت انتخاب تو دے

۶

در قبول ہے درباں نہ بند کر در یاردعائے خیر مری ہونے مستجاب تو دے

۷

کھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ نرگسذرا دکھا تو اسے چشم نیم خواب تو دے

۸

بلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کاتسلی آ کے مجھے وقت اضطراب تو دے

۹

ہوا بگولے میں ہے کشتگان زلف کی خاککہ بعد مرگ بھی معلوم پیچ و تاب تو دے

۱۰

بلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز جگربجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے

۱۱

شہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدیٹھہرنے مجھ کو تہ تیغ اضطراب تو دے

۱۲

شکار بستۂ فتراک کو ترے مقدورہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر رکاب تو دے

۱۳

دل برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خواروجو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے

۱۴

نشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرےجو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے

۱۵

جواب نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ یارجو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے

۱۶

رکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل ہمت کانہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ حباب تو دے

۱۷

کہاں بجھی ہے تہ خاک میری آتش دلکہو ہوا سے ہلا دامن سحاب تو دے

۱۸

خنک دلوں کی اگر آہ سرد دوزخ میںپڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے

۱۹

کرے گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سےنگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ تاب تو دے

۲۰

پہنچ رہوں گا سر منزل فنا اے ذوقؔمثال نقش قدم کرنے پا تراب تو دے

۶۰ / ۶۶