کلامِ ذوقردیف ی

نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگی

۱

نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگیچلی تھی برچھی کسی پر کسی کے آن لگی

۲

ترا زباں سے ملانا زباں جو یاد آیانہ ہائے ہائے میں تالو سے پھر زبان لگی

۳

کسی کے دل کا سنو حال دل لگا کر تمجو ہووے دل کو تمہارے بھی مہربان لگی

۴

تو وہ ہے ماہ جبیں مثل دیدۂ انجمرہے ہے تیری طرف چشم یک جہان لگی

۵

خدا کرے کہے تجھ سے یہ کچھ خدا لگتیکہ زلف اے بت بدکیشں تیرے کان لگی

۶

اڑائی حرص نے آ کر جہاں میں سب کی خاکنہیں ہے کس کو ہوا زیر آسمان لگی

۷

کسی کی کاوش مژگاں سے آج ساری راتنہیں پلک سے پلک میری ایک آن لگی

۸

تباہ بحر جہاں میں تھی اپنی کشتی عمرسو ٹوٹ پھوٹ کے بارے کنارے آن لگی

۹

تمہارے ہاتھ سے سینے میں دل سے تابہ جگرسنان و خنجر و پیکاں کی ہے دکان لگی

۱۰

خدنگ یار مرے دل سے کس طرح نکلےکہ اس کے ساتھ ہے اے ذوقؔ میری جان لگی

۲۸ / ۶۶