کلامِ ذوقردیف ہ

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

۱

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ

۲

چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرارتیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ

۳

کھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دلجیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ

۴

خط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہےرکھا مگر کسی نے دل نامہ بر پہ ہاتھ

۵

جوں پنج شاخہ تو نہ جلا انگلیاں طبیبرکھ رکھ کے نبض عاشق تفتہ جگر پہ ہاتھ

۶

قاتل یہ کیا ستم ہے کہ اٹھتا نہیں کبھیآ کر مزار کشتۂ تیغ نظر پہ ہاتھ

۷

میں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غباراٹھتا ہوں رکھ کے دوش نسیم سحر پہ ہاتھ

۸

اے شمع ایک چور ہے بادی یہ باد صبحمارے ہے کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ

۹

اے ذوقؔ میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کراس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ

۲۷ / ۶۶