کلامِ ذوقردیف ی
بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی
۱
بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہیوہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی
۲
سنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہیپر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی
۳
گو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مریشکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی
۴
کیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہےپاؤں کاٹوں گا انگوٹھا وہ جمائے تو سہی
۵
پارۂ مصحف دل تھے ترے کوچہ میں پڑےآتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی
۶
صاف بے پردہ نہیں ہوتا وہ غرفہ میں نہ ہوروزن در سے کبھی آنکھ لڑائے تو سہی
۷
گہ بڑھاتا ہے گہے مہ کو گھٹاتا ہے فلکپر شب ہجر کو ہم دیکھیں گھٹائے تو سہی
۸
کروں اک نالے سے میں حشر میں برپا سو حشرشور محشر مجھے سوتے سے جگائے تو سہی
۹
گر پڑے تھے کئی اس کوچے میں دل کے ٹکڑےآتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی
۱۰
تھے تمہیں نکلے جو اس دام بلا سے اے ذوقؔورنہ تھے پیچ میں اس زلف کے آئے تو سہی
۲۹ / ۶۶