کلامِ ذوقردیف ی
برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی
برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئیکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی
اس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئیہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی
ناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئیچیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی
صبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہاے دل شامت زدہ شامت لگا کر لے گئی
خون سے فرہاد کے رنگیں ہوا دامان کوہکیوں نہ موج شیر یہ دھبا چھڑا کر لے گئی
تم نے تو چھوڑا ہی تھا اے ہم رہان قافلہلیکن آواز جرس ہم کو جگا کر لے گئی
نوک مژگاں جب ہوئی سینہ فگاروں سے دو چارپارہ ہائے دل سے گلدستہ بنا کر لے گئی
دیکھی کچھ دل کی کشش لیلیٰ کہ ناقے کو ترےسوئے مجنوں آخرش رستہ بھلا کر لے گئی
واہ اے سوز دروں کوچے میں اس کے برق آہرات ہم کو ہر قدم مشعل دکھا کر لے گئی
وہ گئے گھر غیر کے اور یاں ہمیں دم بھر کے بعدبدگمانی ان کے گھر سو گھر پھرا کر لے گئی
جو شہید ناز کوچے میں تمہارے تھا پڑاکیا کہوں تقدیر اسے کیونکر اٹھا کر لے گئی
دشت وحشت میں بگولا تھا کہ دیوانہ تراروح مجنوں بہر استقبال آ کر لے گئی
آگ میں ہے کون گر پڑتا مگر پروانے کوآتش سوز محبت تھی جلا کر لے گئی
اے پری پہلو سے میرے کیا کہوں تیری نگاہدل اڑا کر لے گئی یا پر لگا کر لے گئی
ذوقؔ مر جانے کا تو اپنے کوئی موقع نہ تھاکوئے جاناں میں اجل ناحق لگا کر لے گئی
۳۰ / ۶۶