کلامِ ذوقردیف ر
جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کرکیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر
میں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج زنداں چھوڑ کرسیب جنت تک نہ کھاؤں سنگ طفلاں چھوڑ کر
پیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کےکھینچے تو شنگرف سے خون شہیداں چھوڑ کر
میں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرارہ گیا بس منشی قدرت جگہ واں چھوڑ کر
سایۂ سرو چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھےسانپ سا پانی میں اے سرو خراماں چھوڑ کر
ہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر عشقبھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق میزاں چھوڑ کر
اہل جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلکلعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر
شوق ہے اس کو بھی طرز نالۂ عشاق سےدم بدم چھیڑے ہے منہ سے دود قلیاں چھوڑ کر
دل تو لگتے ہی لگے گا حوریان عدن سےباغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر
گھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطےبیٹھے ہیں گھر بار ہم سب خانہ ویراں چھوڑ کر
وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجبروئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخنکون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
۱۳ / ۶۶