کلامِ ذوقردیف و

ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

۱

ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہواک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو

۲

ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہوآئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

۳

ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوالہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو

۴

پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گردبرگ ریزی محبت کا ثمر دیکھتے ہو

۵

بید مجنوں کو ہو جب دیکھتے اے اہل نظرکسی مجنوں کو بھی آشفتہ بسر دیکھتے ہو

۶

شوق دیدار مری نعش پہ آ کر بولاکس کی ہو دیکھتے راہ اور کدھر دیکھتے ہو

۷

لذت ناوک غم ذوقؔ سے ہو پوچھتے کیالب پڑے چاٹتے ہیں زخم جگر دیکھتے ہو

۲۶ / ۶۶