کلامِ ذوقردیف ن
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں
۱
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیںہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں
۲
ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیںتو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں
۳
شب وصال کے روز فراق میں کیا کیانصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں
۴
قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتاوہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ہیں
۵
ہم ان کے زور کے قائل ہیں ہیں وہی شہ زورجو عشق میں دل مضطر کو تھام لیتے ہیں
۶
قتیل ناز بتاتے نہیں تجھے قاتلجب ان سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں
۷
ترے اسیر جو صیاد کرتے ہیں فریادتو پھر وہ دم ہی نہیں زیر دام لیتے ہیں
۸
جھکائے ہے سر تسلیم ماہ نو پر وہغرور حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں
۹
ترے خرام کے پیرو ہیں جتنے فتنے ہیںقدم سب آن کے وقت خرام لیتے ہیں
۱۰
ہمارے ہاتھ سے اے ذوقؔ وقت مے نوشیہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں
۲۰ / ۶۶