کلامِ ذوقردیف ن
ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیں
۱
ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیںشاید اس کو دیکھ کر صل علیٰ کہنے کو ہیں
۲
وصف چشم و وصف لب اس یار کا کہنے کو ہیںآج ہم درس اشارات و شفا کہنے کو ہیں
۳
آج ان سے مدعی کچھ مدعا کہنے کو ہیںپر نہیں معلوم کیا کہویں گے کیا کہنے کو ہیں
۴
جو وہ قد قامت سدا کہنے کو ہیںاور عاشق وصف قد قامت ترا کہنے کو ہیں
۵
پوچھ آ قاتل سے تو وہ کب کرے گا ہم کو قتلآج ہم تاریخ مرگ آپ اے قضا کہنے کو ہیں
۶
میں ترے ہاتھوں کے قرباں واہ کیا مارے ہیں تیرسب دہان زخم منہ سے مرحبا کہنے کو ہیں
۷
وہ جنازے پر مرے کس وقت آئے دیکھناجب کہ اذن عام میرے اقربا کہنے کو ہیں
۲۱ / ۶۶