کلامِ ذوقردیف ن
گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں
گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیںبشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں
نہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیںیہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں
وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیںمحبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں
وہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیںہم ان کو دیکھتے ہیں اور جگر کو دیکھتے ہیں
جب اپنے گریہ و سوز جگر کو دیکھتے ہیںسلگتی آگ میں ہم خشک و تر کو دیکھتے ہیں
رفیق جب مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیںتو چارہ گر انہیں وہ چارہ گر کو دیکھتے ہیں
نہ طمطراق کو نے کر و فر کو دیکھتے ہیںہم آدمی کے صفات و سیر کو دیکھتے ہیں
جو رات خواب میں اس فتنہ گر کو دیکھتے ہیںنہ پوچھ ہم جو قیامت سحر کو دیکھتے ہیں
وہ روز ہم کو گزرتا ہے جیسے عید کا دنکبھی جو شکل تمہاری سحر کو دیکھتے ہیں
جہاں کے آئینوں سے دل کا آئینہ ہے جدااس آئینے میں ہم آئینہ گر کو دیکھتے ہیں
بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گرہنر ور اپنے ہی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں
۲۲ / ۶۶