کلامِ ذوقردیف ن

گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیں

۱

گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیںپڑا جس دن سے دل بس میں ترے اور دل کے ہم بس میں

۲

کبھی ملنا کبھی رہنا الگ مانند مژگاں کےتماشہ کج سرشتوں کا ہے کچھ اخلاص کے بس میں

۳

توقع کیا ہو جینے کی ترے بیمار ہجراں کےنہ جنبش نبض میں جس کی نہ گرمی جس کے ملمس میں

۴

دکھائے چیرہ دستی آہ بالادست گر اپنیتو مارے ہاتھ دامان قیامت چرخ اطلس میں

۵

جو ہے گوشہ نشیں تیرے خیال مست ابرو میںوہ ہے بیت الصنم میں بھی تو ہے بیت المقدس میں

۶

کرے لب آشنا حرف شکایت سے کہاں یہ دمترے محزون بے دم میں ترے مفتون بیکس میں

۷

ہوائے کوے جاناں لے اڑے اس کو تعجب کیاتن لاغر میں ہے جاں اس طرح جس طرح بو خس میں

۸

مجھے ہو کس طرح قول و قسم کا اعتبار ان کےہزاروں دے چکے وہ قول لاکھوں کھا چکے قسمیں

۹

ہوئے سب جمع مضموں ذوقؔ دیوان دو عالم کےحواس خمسہ ہیں انساں کے وہ بند مخمس میں

۲۳ / ۶۶