کلامِ ذوقردیف و
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
۱
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ توتجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
۲
ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوںدے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو
۳
اس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کردامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو
۴
چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلفتربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو
۵
اے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنامانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو
۶
یہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغغافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو
۷
ہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہوکیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو
۸
جو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھردروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو
۹
عمر رواں کا توسن چالاک اس لیےتجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو
۱۰
آوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھااے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو
۲۴ / ۶۶