کلامِ ذوقردیف و

عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو

۱

عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھویہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو

۲

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھوزبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

۳

نہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہجو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو

۴

سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہواگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو

۵

پڑے کتاب کے قصوں میں کیا کرو دل صافصفا ہو دل تو بہ از روضۃ الصفا سمجھو

۶

ہنسے جو وہ مرے رونے پہ تو صف مژگاںنہ سمجھو تم اسے دیوار قہقہا سمجھو

۷

نفس کی آمد و شد ہے نماز اہل حیاتجو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھو

۸

تمہاری راہ میں ملتے ہیں خاک میں لاکھوںاس آرزو میں کہ تم اپنا خاک پا سمجھو

۹

دعائیں دیتے ہیں ہم دل سے تیغ قاتل کولب جراحت دل کو لب دعا سمجھو

۱۰

بہا دیا مرا خوں اس نے اپنے کوچے میںاسی کو یارو دیت سمجھو خوں بہا سمجھو

۱۱

سمجھ ہے اور تمہاری کہوں میں تم سے کیاتم اپنے دل میں خدا جانے سن کے کیا سمجھو

۱۲

تمہیں ہے نام سے کیا کام مثل آئینہجو روبرو ہو اسے صورت آشنا سمجھو

۱۳

زہے نصیب کہ ہنگام مشق تیر ستمہمارے ڈھیر کو تم تو وہ خاک کا سمجھو

۱۴

نہیں ہے کم زر خالص سے زردی رخسارتم اپنے عشق کو اے ذوقؔ کیمیا سمجھو

۲۵ / ۶۶