وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا

فصل گل آئی گئی صحن چمن میں سو باراپنے سر میں تھا جو سودا وہ بدستور رہا

About this couplet

This is couplet 7 of 11 in “⁨وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۱