وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا
جلوۂ برق تجلی نظر آیا نہ کبھیمدتوں جا کے وہاں میں شجر طور رہا
About this couplet
This is couplet 8 of 11 in “وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۸ / ۱۱