کلامِ امیرردیف الف
نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا
نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کامزا میں کیا کہوں آغاز آشنائی کا
کہاں نہیں ہے تماشا تری خدائی کامگر جو دیکھنے دے رعب کبریائی کا
وہ ناتواں ہوں اگر نبض کو ہوئی جنبشتو صاف جوڑ جدا ہو گیا کلائی کا
شب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہوکہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا
یہ جوش حسن سے تنگ آئی ہے قبا ان کیکہ بند بند ہے خواہاں گرہ کشائی کا
کمان ہاتھ سے رکھ صید گاہ عرفاں میںکہ تیر صید ہے یاں دام نارسائی کا
وہ بد نصیب ہوں یار آئے میرے گھر تو بنےسمٹ کے وصل کی شب تل رخ جدائی کا
ہزاروں کافر و مومن پڑے ہیں سجدے میںبتوں کے گھر میں بھی سامان ہے خدائی کا
تمام ہو گئے ہم پہلے ہی نگاہ میں حیفنہ رات وصل کی دیکھی نہ دن جدائی کا
نہیں ہے مہر لفافہ پہ خط کے اے قاصدیہ داغ ہے مری قسمت کی نارسائی کا
نقاب ڈال کے اے آفتاب حشر نکلخدا سے ڈر یہ کہیں دن ہے خود نمائی کا
نہیں قرار گھڑی بھر کسی کے پہلو میںیہ ذوق ہے ترے ناوک کو دل ربائی کا
مری طرف سے کوئی جا کے کوہ کن سے کہےنہیں نہیں یہ محل زور آزمائی کا
کہا جو میں نے کہ میں خاک راہ ہوں تیراتو بولے ہے ابھی پندار خود نمائی کا
جنوں جو میری طرف ہو وہ جست و خیز کروںکہ دل ہو ٹوٹ کے ٹکڑے شکستہ پائی کا
امیرؔ روئیے اپنے نصیب کو ایساکہ ہو سپید سیہ ابر نارسائی کا
۶ / ۴۷