کلامِ امیرردیف الف
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتایہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتاوہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا
ترا مے کدہ سلامت ترے خم کی خیر ساقیمرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا
میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتیکہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میںدل داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یاربمرے دونوں پہلوؤں میں دل بے قرار ہوتا
دم نزع بھی جو وہ بت مجھے آ کے منہ دکھاتاتو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا
نہ ملک سوال کرتے نہ لحد فشار دیتیسر راہ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چرائیوہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچا کہو لاکھ بار کہہ دوںاسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیرؔ باقیانہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا
۷ / ۴۷