جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

جاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدمکہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا

About this couplet

This is couplet 16 of 22 in “⁨جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۱۶ / ۲۲