جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

موذیوں کو حادثوں سے دہر کے کیا خوف ہےبارش باراں سے گھر گرتا نہیں زنبور کا

About this couplet

This is couplet 17 of 22 in “⁨جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۱۷ / ۲۲