جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
جاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدمکہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا
About this couplet
This is couplet 19 of 22 in “جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۱۹ / ۲۲