جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

کی نظر جس پر کدورت سے رہا خاموش وہہے اثر گرد نگاہ یار میں سیندور کا

About this couplet

This is couplet 20 of 22 in “⁨جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۲۰ / ۲۲