جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
جلوۂ معشوق ہر جا ہے بصیرت ہو اگرکرمک شب تاب میں عالم ہے شمع طور کا
About this couplet
This is couplet 21 of 22 in “جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۲۱ / ۲۲