جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

اس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کابت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگ طور کا

About this couplet

This is couplet 3 of 22 in “⁨جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۲۲