جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

تجھ کو لائے گھر میں جنت کو جلایا رشک سےہم بغل تجھ سے ہوئے پہلو دبایا حور کا

About this couplet

This is couplet 4 of 22 in “⁨جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۴ / ۲۲