ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

عجب مرقع ہے باغ دنیا کہ جس کا صانع نہیں ہویداہزارہا صورتیں ہیں پیدا پتہ نہیں صورت آفریں کا

About this couplet

This is couplet 3 of 5 in “⁨ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۵