کلامِ امیرردیف الف
ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا
۱
ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کابس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کا
۲
قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کرجو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
۳
عجب مرقع ہے باغ دنیا کہ جس کا صانع نہیں ہویداہزارہا صورتیں ہیں پیدا پتہ نہیں صورت آفریں کا
۴
ہوائے مے میں ہوں محو ایسا چمن میں گھر کر جو ابر آیاسیاہ مستی میں میں یہ سمجھا جہاز ہے آب آتشیں کا
۵
امیرؔ دیکھا جو اس کا نقش تو نقش یوسف کا دل سے اتراکہ نقش ثانی کے آگے ہوتا فروغ کیا نقش اولیں کا
۹ / ۴۷