کلامِ امیرردیف الف
ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا
ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرالام کا خوب الف مد مقابل ٹھہرا
دیدۂ تر سے جو دامن میں گرا دل ٹھہرابہتے بہتے یہ سفینہ لب ساحل ٹھہرا
کی نظر روئے کتابی پہ تو کچھ دل ٹھہرامکتب شوق بھی قرآن کی منزل ٹھہرا
نگہت گل سے پریشان ہوا اس کا دماغخندۂ گل نہ ہوا شور عنادل ٹھہرا
نجد سے قیس جو آیا مرے زنداں کی طرفدیر تک گوش بر آواز سلاسل ٹھہرا
حسن جس طفل کا چمکا وہ ہوا باعث قتلجس نے تلوار سنبھالی مرا قاتل ٹھہرا
خط جو نکلا رخ جاناں پہ ملا بوسۂ خالیہی دانہ فقط اس کشت کا حاصل ٹھہرا
علم اک نقطہ جو مشہور تھا اے جوش جنوںغور سے کی جو نظر نقطۂ باطل ٹھہرا
دور جب تک تھے تڑپتا تھا میں کیسا کیساپاس آ کر وہ جو ٹھہرے تو مرا دل ٹھہرا
کثرت داغ سے گلدستہ بنا دل تو کیازینت باغ نہ آرائش محفل ٹھہرا
دوڑتا قیس بھی آتا ہے نہایت ہی قریباک ذرا ناقے کو اے صاحب محمل ٹھہرا
دم جو بیتاب تھا مدت سے مرے سینے میںتیغ قاتل کے تلے کچھ دم بسمل ٹھہرا
ہم بڑی دور سے آئے ہیں تمہارا ہے یہ حالگھر سے دروازے تک آنا کئی منزل ٹھہرا
اب تک آتی ہے صدا تربت لیلیٰ سے امیرؔساربان اب تو خدا کے لیے محمل ٹھہرا
۱۰ / ۴۷