کلامِ امیرردیف ے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

۱

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

۲

تری بانکی چتون نے چن چن کے مارےنکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

۳

نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتےہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

۴

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھاوہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے

۵

ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیامگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

۶

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیںگلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

۷

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤتڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

۸

خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ ساراتڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

۹

امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گیپھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے

۳۷ / ۴۷