کلامِ امیرردیف ے
تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
۱
تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہےسینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے
۲
خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوستتو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے
۳
کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہےسخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے
۴
چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دلآنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے
۵
نام شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوبپھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے
۶
صید کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکراے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے
۷
میری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیرؔسر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے
۳۸ / ۴۷