کلامِ امیرردیف ی
بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی
۱
بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کیکہ فرد داخل دفتر ہوئی گناہوں کی
۲
ترے فقیر دکھائیں جو مرتبہ اپنانظر سے اترے چڑھی بارگاہ شاہوں کی
۳
ذرا بھی چشم کرم ہو تو لے اڑیں حوریںسمجھ کے سرمہ سیاہی مرے گناہوں کی
۴
خوشا نصیب جو تیری گلی میں دفن ہوئےجناں میں روحیں ہیں ان مغفرت پناہوں کی
۵
فرشتے کرتے ہیں دامان زلف حور سے صافجو گرد پڑتی ہے اس روضے پر نگاہوں کی
۶
رکے گی آ کے شفاعت تری خریداریکھلیں گی حشر میں جب گٹھڑیاں گناہوں کی
۷
میں ناتواں ہوں پہنچوں گا آپ تک کیونکرکہ بھیڑ ہوگی قیامت میں عذر خواہوں کی
۸
نگاہ لطف ہے لازم کہ دور ہو یہ مرضدبا رہی ہے سیاہی مجھے گناہوں کی
۹
خدا کریم محمد شفیع روز جزاامیر کیا ہے حقیقت میرے گناہوں کی
۳۶ / ۴۷