کلامِ امیرردیف ے
اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
۱
اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہےہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے
۲
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائےسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
۳
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کوہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
۴
آ گیا اس کا تصور تو پکارا یہ شوقدل میں جم جائے الٰہی یہ خیال اچھا ہے
۵
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحبوہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
۶
برق اگر گرمئ رفتار میں اچھی ہے امیرؔگرمی حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
۳۹ / ۴۷