کلامِ امیرردیف ے
وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے
وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہےہو نہ ہو اس میں بھی کوئی گھات ہے
خلق ناحق درپئے اثبات ہےہے دہن اس کا کہاں اک بات ہے
بوسۂ چاہ زنخداں غیر لیںڈوب مرنے کی یہ اے دل بات ہے
گھر سے نکلے ہو نہتے وقت قتلیہ بھی بہر قتل عاشق گھات ہے
میں نے اتنا ہی کہا بنواؤ خطیہ بگڑنے کی بھلا کیا بات ہے
بعد مدت بخت جاگے ہیں مرےبیٹھے ہیں سونے کو ساری رات ہے
کیا کروں وصف بتان خودپسندان سے بڑھ کر بس خدا کی ذات ہے
باتوں باتوں میں جو میں کچھ کہہ گیاہنس کے فرمانے لگے کیا بات ہے
حرف مطلب صاف کہہ سکتا نہیںہے ادب مانع کہ پہلی رات ہے
مجھ سے ہو اظہار الفت واہ واآپ کے فرمانے کی یہ بات ہے
رو رہے ہیں ہم ملا دے لب سے لبمے کشی ہو ساقیا برسات ہے
زچ ہے تیری چال سے رفتار چرخمہر رخ سے بازیٔ مہ مات ہے
کیسی کٹتی ہے سیہ بختی میں عمررات سے دن دن سے بد تر رات ہے
چھیڑتا ہے دل کو کیا اے درد ہجرخود گرفتار ہزار آفات ہے
اے غنی دے سیم و زر وقت بلامال دنیا جان کی خیرات ہے
گر جگہ دل میں نہیں پھر اس سے کیایہ دوشنبے کی یہ بدھ کی رات ہے
صاف کہہ دے تو یہاں آیا نہ کریار یہ سو بات کی اک بات ہے
لخت دل ہیں میرے کھانے کو امیرؔبس انہیں ٹکڑوں پہ اب اوقات ہے
۴۰ / ۴۷