کلامِ امیرردیف ے

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے

۱

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہےنکل اے صبر اس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہے

۲

نظر میں تیری آنکھیں سر میں سودا تیری زلفوں کاکئی پریوں کے سائے میں ترا دیوانہ آتا ہے

۳

وفور رحمت باری ہے مے خواروں پہ ان روزوںجدھر سے ابر اٹھتا ہے سوئے مے خانہ آتا ہے

۴

لگی دل کی بجھائے بیکسی میں کون ہے ایسامگر اک گریۂ حسرت کہ بے تابانہ آتا ہے

۵

انہیں سے غمزے کرتی ہے جو تجھ پر جان دیتے ہیںاجل تجھ کو بھی کتنا ناز معشوقانہ آتا ہے

۶

پریشانی میں یہ عالم تری زلفوں کا دیکھا ہےکہ اک اک بال پر قربان ہونے شانہ آتا ہے

۷

چھلک جاتا ہے جام عمر اپنا وائے ناکامیہمارے منہ تلک ساقی اگر پیمانہ آتا ہے

۸

وہ بت ہی مہرباں سب اپنا اپنا حال کہتے ہیںلب خاموش تجھ کو بھی کوئی افسانہ آتا ہے

۹

طلسم تازہ تیرا سایۂ دیوار رکھتا ہےبدلتا ہے پری کا بھیس جو دیوانہ آتا ہے

۱۰

یہ عظمت رہ کے زاہد ان بتوں میں ہم نے پائی ہےکہ کعبہ ہم کو لینے تا در مے خانہ آتا ہے

۱۱

دو رنگی سے نہیں خالی عدم بھی صورت ہستیکوئی ہشیار آتا ہے کوئی دیوانہ آتا ہے

۱۲

ہما یوں استخوان سوختہ پر میرے گرتا ہےتڑپ کر شمع پر جیسے کوئی پروانہ آتا ہے

۱۳

ادھر ہیں حسن کی گھاتیں ادھر ہیں عشق کی باتیںتجھے افسوں تو مجھ کو اسے پری افسانہ آتا ہے

۱۴

کلیجا ہاتھ سے اہل طمع کے چاک ہوتا ہےصدف آسا اگر مجھ کو میسر دانہ آتا ہے

۱۵

نمک جلاد چھڑکا چاہتا ہے میرے زخموں پرمزے کا وقت اب اے ہمت مردانہ آتا ہے

۱۶

زبردستی کا دھڑکا وصل میں تم کو سمایا ہےکدھر ہو ہوش میں آؤ کوئی آیا نہ آتا ہے

۱۷

الٰہی کس کی شمع حسن سے روشن ہے گھر میراکہ بن جاتا ہے جگنو آج جو پروانہ آتا ہے

۱۸

وہ عاشق خال و خط کا ہوں نذر مور کرتا ہوںمیسر تیسرے دن بھی جو مجھ کو دانہ آتا ہے

۱۹

امیرؔ اور آنے والا کون ہے گور غریباں پرجو روشن شمع ہوتی ہے تو ہاں پروانہ آتا ہے

۴۱ / ۴۷