کلامِ امیرردیف ے

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

۱

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہےسجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے

۲

ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلےعاشقوں کی عید قرباں اور ہے

۳

روز و شب یاں ایک سی ہے روشنیدل کے داغوں کا چراغاں اور ہے

۴

خال دکھلاتی ہے پھولوں کی بہاربلبلو اپنا گلستاں اور ہے

۵

قید میں آرام آزادی وبالہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے

۶

بحر الفت میں نہیں کشتی کا کامنوح سے کہہ دو یہ طوفاں اور ہے

۷

کس کو اندیشہ ہے برق و سیل سےاپنا خرمن کا نگہباں اور ہے

۸

درد وہ دل میں وہ سینہ پر ہے داغجس کا مرہم جس کا درماں اور ہے

۹

کعبہ رو محراب ابرو اے امیرؔاپنی طاعت اپنا ایماں اور ہے

۴۲ / ۴۷