کلامِ امیرردیف ے

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے

۱

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہےدیوانے کو ایک ہو بہت ہے

۲

موتی کی طرح جو ہو خدادادتھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے

۳

جاتے ہیں جو صبر و ہوش جائیںمجھ کو اے درد تو بہت ہے

۴

مانند کلیم بڑھ نہ اے دلیہ درد کی گفتگو بہت ہے

۵

بے کیف ہو مے تو خم کے خم کیااچھی ہو تو اک سبو بہت ہے

۶

کیا وصل کی شب میں مشکلیں ہیںفرصت کم آرزو بہت ہے

۷

منظور ہے خون دل جو اے یاساپنے لیے آرزو بہت ہے

۸

اے نشتر غم ہو لاکھ تن خشکتیرے دم کو لہو بہت ہے

۹

چھیڑے وہ مژہ تو کیوں میں روؤںآنکھوں میں خلش کو مو بہت ہے

۱۰

غنچے کی طرح چمن میں ساقیاپنا ہی مجھے سبو بہت ہے

۱۱

کیا غم ہے امیرؔ اگر نہیں مالاس وقت میں آبرو بہت ہے

۴۳ / ۴۷