کلامِ امیرردیف ے
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
۱
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہےزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے
۲
رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہےمکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے
۳
ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیںپھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے
۴
خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہدپھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ رہے
۵
خزاں تو خیر سے گزری چمن میں بلبل کیبہار آئی ہے اب آشیاں رہے نہ رہے
۶
چلا تو ہوں پئے اظہار درد دل دیکھوںحضور یار مجال بیاں رہے نہ رہے
۷
امیرؔ جمع ہیں احباب درد دل کہہ لےپھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے
۴۴ / ۴۷