کلامِ امیرردیف ب

پلا ساقیا ارغوانی شراب

۱

پلا ساقیا ارغوانی شرابکہ پیری میں دے نوجوانی شراب

۲

وہ شعلہ ہے ساقی کہ رنجک کی طرحاڑا دیتی ہے ناتوانی شراب

۳

کہاں بادۂ عیش تقدیر میںپیوں میں تو ہو جائے پانی شراب

۴

نہ لایا ہے شیشہ نہ جام و سبوپلاتا ہے ساقی زبانی شراب

۵

کہاں عقل برنا کہاں عقل پیرنئے سے ہے بہتر پرانی شراب

۶

مرے چہرۂ زرد کے عکس سےہوئی ساقیا زعفرانی شراب

۷

ہوئے مست دیکھا جو پھولوں کا رنگپیالوں میں تھی ارغوانی شراب

۸

کہاں چشمۂ خضر کیسے خضرخضر ہے مری زندگانی شراب

۹

خضر ہوں اگر میں تو جا کر پیوںسر چشمۂ زندگانی شراب

۱۰

گلستاں ہے پھولوں سے کیا لال لالچلے ساقیا ارغوانی شراب

۱۱

عجب ساقیا گندمی رنگ ہےکہ پرتو سے بنتی ہے دھانی شراب

۱۲

رہے طاق پر پارسائی امیرؔپلائے جو وہ یار جانی شراب

۱۳ / ۴۷