کلامِ امیرردیف ی
پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری
۱
پھولوں میں اگر ہے بو تمہاریکانٹوں میں بھی ہوگی خو تمہاری
۲
اس دل پہ ہزار جان صدقےجس دل میں ہے آرزو تمہاری
۳
دو دن میں گلو بہار کیا کیرنگت وہ رہی نہ بو تمہاری
۴
چٹکا جو چمن میں غنچۂ گلبو دے گئی گفتگو تمہاری
۵
مشتاق سے دور بھاگتی ہےاتنی ہے اجل میں خو تمہاری
۶
گردش سے ہے مہر و مہ کے ثابتان کو بھی ہے جستجو تمہاری
۷
آنکھوں سے کہو کمی نہ کرنااشکوں سے ہے آبرو تمہاری
۸
لو سرد ہوا میں نیم بسملپوری ہوئی آرزو تمہاری
۹
سب کہتے ہیں جس کو لیلۃ القدرہے کاکل مشک بو تمہاری
۱۰
تنہا نہ پھرو امیرؔ شب کوہے گھات میں ہر عدو تمہاری
۳۳ / ۴۷