کلامِ امیرردیف ی
ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
۱
ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میریکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری
۲
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میریمیری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
۳
میں نے آغوش تصور میں بھی کھینچا تو کہاپس گئی پس گئی بے درد نزاکت میری
۴
آئینہ صبح شب وصل جو دیکھا تو کہادیکھ ظالم یہ تھی شام کو صورت میری
۵
یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلےآج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری
۶
حسن اور عشق ہم آغوش نظر آ جاتےتیری تصویر میں کھنچ جاتی جو حیرت میری
۷
کس ڈھٹائی سے وہ دل چھین کے کہتے ہیں امیرؔوہ مرا گھر ہے رہے جس میں محبت میری
۳۴ / ۴۷