کلامِ امیرردیف ہ
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
۱
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھغم سے بے اختیار سا ہے کچھ
۲
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیںجامۂ مستعار سا ہے کچھ
۳
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاںنشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
۴
نخل امید میں نہ پھول نہ پھلشجر بے بہار سا ہے کچھ
۵
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیںآسماں پر غبار سا ہے کچھ
۶
کل تو آفت تھی دل کی بیتابیآج بھی بے قرار سا ہے کچھ
۷
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہداغ شمع مزار سا ہے کچھ
۸
اس کو دنیا کی اس کو خلد کی حرصرند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
۹
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیرؔاب تو بے اختیار سا ہے کچھ
۳۲ / ۴۷