کلامِ امیرردیف ی

گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی

۱

گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑیکہ ہے یہ طول قصہ رات تھوڑی

۲

جو مے زاہد نے مانگی مست بولےبہت یا قبلۂ حاجات تھوڑی

۳

کہاں غنچہ کہاں اس کا دہن تنگبڑھائی شاعروں نے بات تھوڑی

۴

اٹھے کیا زانوے غم سے سر اپنابہت گزری رہی ہیہات تھوڑی

۵

خیال ضبط گریہ ہے جو ہم کوبہت امسال ہے برسات تھوڑی

۶

پلائے لے کے نقد ہوش ساقیتہی دستوں کی ہے اوقات تھوڑی

۷

وہی ہے آسماں پر گنج انجمملی تھی جو تری خیرات تھوڑی

۸

ترا اے دخت رز واصف ہے واعظپئے حرمت ہے اتنی بات تھوڑی

۹

چلو منزل امیرؔ آنکھیں تو کھولونہایت رہ گئی ہے رات تھوڑی

۳۵ / ۴۷