کلامِ امیرردیف ہ
چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۱
چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہطرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۲
گل رخ نازک زلف ہے سنبل آنکھ ہے نرگس سیب زنخداںحسن سے تم ہو غیرت گلشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۳
ساقیٔ بزم روز ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میںآنکھیں ہیں ساغر شیشہ ہے گردن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۴
قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ آفت جاں در پردہ لگاوٹچاہ کی تیور پیار کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۵
غمزہ اچکا عشوہ ہے ڈاکو قہر ادائیں سحر ہیں باتیںچور نگاہیں ناز ہے رہزن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۶
نور کا تن ہے نور کے کپڑے اس پر کیا زیور کی چمک ہےچھلے کنگن اکے جوشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۷
جمع کیا ضدین کو تم نے سختی ایسی نرمی ایسیموم بدن ہے دل ہے آہن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۸
واہ امیرؔ ایسا ہو کہنا شعر ہیں یا معشوق کا گہنہصاف ہے بندش مضموں روشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
۳۰ / ۴۷