کلامِ امیرردیف و

اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو

۱

اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہودل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو

۲

مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیبدو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو

۳

اک پھول ہے گلاب کا آج ان کے ہاتھ میںدھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو

۴

ڈھونڈے سے بھی نہ معنی باریک جب ملادھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اس کی کمر نہ ہو

۵

الفت کی کیا امید وہ ایسا ہے بے وفاصحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو

۶

طول شب وصال ہو مثل شب فراقنکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو

۲۹ / ۴۷