کلامِ امیرردیف ہ

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

۱

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

۲

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہحیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

۳

شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دوکبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

۴

سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنادبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ

۵

وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سےحضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ

۳۱ / ۴۷