کلامِ امیرردیف ل
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولبر آئیں میرے دل کے بھی ارمان یا رسول
کیوں دل پہ میں فدا نہ کروں جان یا رسولرہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
رحمت دکھائے حشر میں وہ شان یا رسولشرمندہ ہوکے ہوں میں پشیمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سےجاری مری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
جس دم کہ دم بدن سے نکلنے لگے مرااس دم نہ ہوں حواس پریشان یا رسول
میں گھر گیا ہوں فوجِ معاصی میں المددکوئی نہیں نجات کا سامان یا رسول
محشر میں دست بستہ کہوں گا حضور سےجی بھر کے نکلیں آج تو ارمان یا رسول
بلوائیے مدینے میں جائے یہ تفرقہاب ہند میں بہت ہوں پریشان یا رسول
سختیِ نزع تنگیِ گور و حسابِ حشریہ منزلیں کڑی نہوں سب آسان یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھےلے جاؤں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
کیا پیاری پیاری باتیں تھیں اصحابِ پاک کیلائے تھے جب سے آپ پر ایمان یا رسول
ہنگامِ عرض کرتے تھے ہاتھوں کو جوڑ کرماں باپ سب ہیں آپ پہ قربان یا رسول
میں بھی تو ہوں غلام اسی در کا حکم ہوروکیں نہ مجھ کو آپ کے دربان یا رسول
خوانِ عطا سے مجھ کو بھی ہوں نعمتیں عطاسرکار میزباں ہیں میں مہمان یا رسول
اولاد میں مری برکت کا ظہور ہوآباد گھر مرا نہ ہو ویران یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملےمیں چاک کر رہا ہوں گریبان یا رسول
اب انبیا کی شان زمانے سے ہے بلندان سب سے برتر آپکی ہے شان یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطےعاصی تو ہوں مگر ہوں پشیمان یا رسول
اس چاک میں مجھے درِ جنت نظر پڑےوحشت میں چاک ہو جو گریبان یا رسول
حیرت زدہ ہے آنکھ تو رخسار دیئکھ کردل کیوں ہے شکلِ آئینہِ حیران یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیؔر آپ کا غلاماب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
۱۹ / ۴۷